Search
Toggle Menu
Print PDF Subscribe
Topic: ☆☆ترجمہ وتفسیر آیت الکرسی ☆☆
Post Date: 11/09/2017, 10:23 AM
Last active: 23/09/2019, 09:47 AM
Management
PRINCE SHAAN *****
Threads: 167, Posts: 293, Thanks: 164
İmage attached on tipsdunya

☆☆ترجمہ وتفسیر آیت الکرسی ☆☆
آیت الکرسی کا پہلا جملہ کچھ یوں ہے :
اللهُ لاَإِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ
"اللّه ہی معبود ہے اسکے علاوہ کوئی معبود نہیں "
یہ ایک دعویٰ ہے _ چونکہ سوال ہوسکتا تھا اس کے علاوہ کوئی دوسرا معبود کیوں نہیں ہوسکتا ؟
لہٰذا
دوسرا جملہ "الحیی القیوم" اس دعویٰ کی دلیل میں لیا گیا یعنی اس کے علاوہ کوئی دوسرا معبود اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ معبود کے لیے زندہ ہونا ضروری ہے اور اللّه تعالیٰ کے علاوہ کوئی حقیقی حیات سے متصف نہیں ، سب کی زندگی مستعار ہے __
فرض کیجئے کہ زید کو کسی مشکل کا سامنا ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ میری مشکل دور ہو _ اب وہ اپنی مشکل کو دور کرنے کے لیے کس کو پکارے _ کیا وہ ان ہستیوں کو پکارے ہو قبروں میں ہیں _ جواب یہ ہے کہ نہیں کیونکہ جو ہستیاں قبروں میں ہیں ... وہ مردہ ہیں اور قرآن میں ہے کہ(( وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ))" مردے اور زندے برابر نہیں ہوسکتے "" اور اگر ان کے لیے حیات کو تسلیم کر لیا جائے تو وہ حیات ، حیات برزخی ہے اور جو محتاج اور تہی دست ہو وہ دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کر سکتا ہے اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے وہ مردہ زندگی کے بعد قبر میں آواز سن سکتا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف ہے یا نہیں ؟ مثلا اردو زبان والا اردو میں اپنی مشکل پیش کرے گا ، جرمن جرمنی زبان میں ، انگریز انگریزی زبان میں آواز دے گا ،
اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ وہ ہستی ہر زبان سے واقف ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ ایک ہی وقت میں سینکڑوں ہزاروں لوگ اپنی مشکلات اس کے سامنے پیش کر دیں تو کیا وہ ان سب کی مشکلات ایک ہی وقت میں سن اور سمجھ لے گا یا اس کے لیے قطار بنانے کی ضرورت پیش آئے گی __
چلو یہ بھی تسلیم کہ وہ ہستی ایک ہی وقت میں تمام مشکلات کو سن لیتی ہے مگر ایک شخص بولنے سے قاصر ہے ، اگر وہ دل ہی دل میں اپنی مشکل پیش کرے تو کیا وہ ہستی اس کی دلی فریاد سن لے گی ؟ جواب ہے کہ ہرگز نہیں __
ثابت ہوا کہ معبود حقیقی وہی ہوسکتا ہے جو زندہ ہو تاکہ پکارنے والے کی آواز سنے اور اس کی مشکلات دور کرے اور اللّه زندہ ہے _
پھر اس جگہ دو سوالات پیدا ہوتے تھے ، ایک تو یہ کہ اللّه تعالیٰ جو زندہ ہے کیا وہ کبھی مر بھی سکتا ہے ؟ دوسرا سوال یہ کہ کیا اسکی زندگی اور بقا کا کوئی دوسرا ذریعه اور وسیلہ ہے ؟ جیسا کہ مشرکین اپنے دیوتاوں کے بارے میں یہ عقیده رکھتے تھے کہ وہ ایک خاص قسم کا مشروب سوم رس پی کر زندہ رہتے ہیں
لہٰذا دونوں شبہات کا جواب الحیی کے بعد " القیوم " لا کر دیا گیا ہے کہ اللّه وہ ہستی ہے جو ہمیشہ قائم اور باقی رہے گا ، وہ قائم بالزات ہے اور جس پر دوسروں کا قیام اور بقا موقوف ہے اور زندہ رہنے کے لیے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں _
پھر ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ ٹھیک ہے ھم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ زندہ ہے زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا _ لیکن کیا اسے نیند آتی ہے اور اگر آتی ہے تو بندہ ایسے وقت میں اسے پکار رہا ہو جب اللّه نیند میں ہو تو اس کی پکار وہ کیسے سنے گا اور اس کی حاجت روائی کیسے کرے گا _ اس کا جواب "" لاَتَأْخُذُھُ سِنَةٌ وَلاَنَوْمٌ "" سے دیا گیا ہے جس میں اونگھ اور نیند دونوں کی نفی کر دی گئی ، سنة یعنی اونگھ کو پہلے لایا گیا ہے اور نوم یعنی نیند کو بعد میں لایا گیا کیونکہ اونگھ غفلت کی ابتدا ہے اور نیند غفلت کی انتہا ہے اور اللّه غفلت کے تمام اثرات سے کمال درجه پاک ہے __
پھر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اللّه تعالیٰ کسی بندے کی پکار سن کر کسی مصلحت کے تحت فوراّ حاجت روائی نہ کرے تو کیا کوئی ہستی کائنات میں ایسی ہے جو دھمکا کر یا ضد کر کے اللّه کو اس کی حاجت روائی پر مجبور کر دے _ اس سوال کا جواب "" لَہُ مَا فِی السَّمَٰوٰت وَمَا فِی الْأَرْضِ "" سے دیا گیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے وہ سب کا مالک ہے اور سب اس کے مملوک اور غلام ہیں اور غلام اور مملوک کی کیا مجال کہ آقا سے ضد کر کے یا اس پر دھونس جما کر اس سے کوئی بات منوا سکے _
پھر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ چلو ٹھیک ہے کہ ضد کر کے یا دھونس جما کر کوئی اس سے کوئی بات نہیں منوا سکتا لیکن یہ تو ہوسکتا ہے کہ کوئی اللّه کا چہیتا ، بزرگ ،ولی ، پیر ، فقیر کوئی مقرب بارگاہ الہی اللّه کے حضور اس آدمی کی حاجت روائی کے بارے میں سفارش کر سکے تو اس سوال کا جواب "مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلاَّ بِإِذْنِہِ " سے دیا گیا کہ اس کے حضور کوئی اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا _
پھر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ٹھیک ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش نہیں کر سکتا لیکن اگر وہ اجازت دیدے تب تو کر ہی سکتا ہے ؟ اس کا جواب " یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدِیھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ " سے دیا گیا ہے کہ اجازت کے بعد خدا کے سامنے کسی کے بارے میں سفارش کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خدا کی معلومات میں اضافہ کرنے جا رہا ہے یا یہ کہنے کی پوزیشن میں ہو کہ جس آدمی کے بارے میں وہ سفارش کرنے جا رہا ہے اس کے حالات کہ بارے میں نعوز باللہ اللّه کو پوری آگاہی نہیں ہے بلکہ اسے ہے _
اللّه تعالیٰ سب کے اگے پیچھے اور اس کے ماضی اور مستقبل اور ہر چیز سے باخبر ہے _
پھر سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ کہ کوئی اس کی معلومات میں اضافہ کیوں نہیں کر سکتا تو اسکا جواب "وَلاَیُحِیطُونَ بِشَیْءٍ مِنْ عِلْمِہ إِلاّ بِمَا شَاءَ " سے دیا گیا ہے کہ کسی ہستی کا بھی یہ درجه اور مرتبہ نہیں کہ وہ اللّه کے علم کے کسی حصہ کا احاطہ کر سکے اور دوسروں کو جو علم ملا ہے وہ اسی سے ملا ہے اور بس اتنا ہی ملا ہے جتنا اس نے ازخود اپنے بندوں میں سے کسی کو دے دیا _ اللّه کا علم لا محدود اور دوسروں کا علم محدود ہے تو بھلا ایک محدود علم والا لا محدود علم والے کی معلومات میں کیسے اضافہ کر سکتا ہے _
پھر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اسمانوں اور زمین میں کوئی ایسا گوشہ اور کونا ہو جو اسکے دائرۂ اختیار سے باہر ہو اور کوئی حاجت مند انسان اس کو اس گوشے سے پکارے تو تو اسکی حاجت روائی وہ کیسے کرے گا تو اسکا جواب " وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ،،" سےدیا گیا کہ یہ صورت نہیں کہ اس کی وسیع مملکت کے بعض گوشے ایسے ہوں جہاں اس کو اپنا اقتدار جمانے میں کامیابی نہ ہو رہی ہو _ بلکہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین کے ہر گوشے اور ہر کونے پر حاوی ہے ___
پھر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اتنی کائنات کے نظام کو خوش اسلوبی سے چلانے اور اتنی بڑی سلطنت کو سمبھالنے میں اسے دشواری تو نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے معبودوں کو اپنا شریک اقتدار بنانے پر مجبور ہو تو تو اسکا جواب " وَلاَیَئُودُہُ حِفْظُھُمَا " سے دیا گیا ہے کہ وہ اکیلا ہی اپنی اس زمین اور آسمان پر حاوی مملکت کا انتظام فرماتا ہے اور ذرا بھی اسکا بوجھ محسوس نہیں کرتا کہ وہ کسی کی طرف سے ہاتھ بٹانے کا محتاج ہو ___
آخر میں فرمایا کہ ""وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ ""اللّه علی اور عظیم ہے یعنی اس کی ہستی بہت بلند اور بڑی ہی عظیم ہے ، اس کے علم ، اس کی قدرت اور اس کی وسعت کو اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپو ، یہیں سے اسکے بارے میں گمراہیاں پیدا ہوتی ہیں اور شرک کی راہیں کھلتی ہیں _____
(حوالہ : آیت الکرسی کی تفسیر از شیخ جلال الدین قاسمی ، صفه 20 تا 26


Possibly Related Threads...
قرآن شریف کی تلاوت اردو ترجمہ کے ساتھ
سورہ البقرہ ترجمہ آیات 177
The Following 2 User Says Thank You To PRINCE SHAAN For This Useful Post:
Ashan, Prince
2.RE: ☆☆ترجمہ وتفسیر آیت الکرسی ☆☆
Last active: 27/10/2017, 06:26 PM
VIP
Ashan ***
Threads: 63, Posts: 150, Thanks: 97
JazakAllah bohat hi piyari sharing.

Posted via [Only registered and activated users can see links Click here to register]
3.RE: ☆☆ترجمہ وتفسیر آیت الکرسی ☆☆
Last active: 09/09/2020, 01:12 PM
Management
Prince *****
Threads: 1,094, Posts: 5613, Thanks: 3,874

جزاک الله الآخر


4.RE: ☆☆ترجمہ وتفسیر آیت الکرسی ☆☆
Last active: 25/07/2018, 05:34 PM
Moderators
Lion Power *****
Threads: 215, Posts: 787, Thanks: 308
بہت خوب

[-]
Tags
☆☆ الکرسی وتفسیر آیت ☆☆ترجمہ